ایپسٹن کیس اس سے پہلے کہ سیاسی بدعنوانی یا قانونی ناکامی کی علامت ہو، جدید مغربی تہذیب میں "انسان" کے زوال کی واضح نشانی ہے۔ ایسا زوال جہاں "انسان" مزید مقصد نہیں رہا بلکہ محض ایک اوزار بن کر رہ گیا ہے: طاقت، لذت اور دولت کا اوزار۔ ایسے نظام میں "انسانی وقار" کوئی "بنیادی اصول" نہیں بلکہ محض "تشہیری نعرہ" ہے، جو جہاں بھی اشرافیہ کے مفادات سے ٹکراتا ہے، آسانی سے کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || جدید مغرب خود کو "شفافیت" کا علمبردار متعارف کراتا رہا ہے: شفافیت حکومت، میڈیا، معیشت اور انسانی حقوق میں۔ لیکن ایپسٹین کیس نے عیاں کر دیا کہ مغربی دنیا میں "شفافیت" چُنِیِدہَ اور طبقاتی چیز ہے۔ شفافیت عوام کے لئے ہے، کمزوروں کے لئے ہے، اور شفافیت کا مطالبہ محکوم قوموں اور طبقوں سے کیا جاتا ہے، شفافیت طاقت کے مالکوں کے لئے نہیں ہے۔ عام لوگوں کی نجی زندگی میڈیا کی زیرِ نظر ہوتی ہے لیکن طاقت کے تاریک، خوفناک اور وحشی نیٹ ورکس، بچوں کا استحصال کرنے والوں جیسے ظالمانہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے باوجود، محفوظ کناروں میں چھپے رہتے ہیں۔
یہاں انسانی زوال کئی پرتوں میں رونما ہوتا ہے:
اول؛ متاثرین کا زوال:
وہ بچے جن کا [فی الحال اس ایک کیس میں] نہ صرف استحصال ہؤا بلکہ ان کی آواز برسوں تک نہیں سنی گئی۔ عدالتی، ابلاغی اور سلامتی کے اداروں کا ساختیاتی اور منظم (Systemetic) خاموشی اس جرم میں ایک طرح کی بالواسطہ شراکت تھی۔ یعنی یہ کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں، انسان، جسے "حق کا موضوع" ہونا چاہئے، کو "استحصال اور زیادتیوں کے ہدف (Object of abuse)" گرا دیا گیا ہے۔
دوئم، اداروں کا زوال:
عدالت، جیل، پولیس اور ذرائع ابلاغ ـ جو سچائی اور حقیقت کا محافظ بننا تھا ـ طاقت کے نیٹ ورک کے سامنے یا تو بے بس ہو گئے یا پھر اس نیٹ ورک کا حصہ بن گئے۔ جب جیل کے کیمرے بند کر دیئے جاتے ہیں، محافظ سو جاتے ہیں اور کیسز اور فائلیں محافظ خانوں میں بند کر دی جاتی ہیں، تو معاملہ محض انفرادی غلطی کا نہیں رہتا؛ بلکہ یہ معاملہ ادارہ جاتی اخلاقیات (Institutional ethics) کی شکست و ریخت کا ہے۔
سوئم، معنی کا زوال:
جہاں شفافیت کا مطلب اب "حقیقت کو آشکار کرنا" نہیں ہے، بلکہ یہ اب مغربی ثقافت میں "رائے عامہ کو لبھانے" کی ایک تکنیک بن گئی ہے۔ جو کچھ بے نقاب ہوتا ہے وہ "کم خرچ" ہوتا ہے۔ اور جو کچھ چھپایا جاتا ہے وہ وہی سچ و حقیقت ہے جو اگر فاش ہوجائے تو مشروعیت و قانونیت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ اس طرح، شفافیت ایک "اخلاقی فضیلت" سے "طاقت کے اوزار" میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں، ایپسٹین کی موت یا قتل ایک جرم کا اختتام نہیں بلکہ حقیقت کا خاتمہ تھا۔ وہ حقیقت جو اگر آشکار ہوتی تو صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ ایک پورے نیٹ ورک اور تہذیبی ماڈل کو مشکوک اور متنازعہ بنا دیتی۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب انسانی زوال و انحطاط اپنے عروج کو پہنچتا ہے:
یہ وہ مرحلہ ہے جس میں "حق جاننے" اور "تلاش انصاف" کو "طاقت کا نظام" قائم رکھنے کی خاطر، ذبح کیا جاتا ہے۔
ایپسٹن کیس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں نہ صرف معاشی بحران یا فوجی ناکامی سے بلکہ "اندرونی اخلاقی انہدام" سے بھی گر جاتی ہیں؛ جہاں بھی بھی انسان کو کائنات کے مرکز سے ہٹا دیا جائے، اور اخلاقیات کو طاقت کے تابع بنایا جاتا ہے، اور ایمان کھڈے لائن لگایا جاتا ہے، وہاں خواہ ظاہری بھیس کتنا ہی خوشنما کیوں نہ ہو، ہمیں اندر سے ایک وحشی، خونخوار، بدعنوان اور فحش، گندے اور شرمناک باطن کا ہی سامنا ہو گا۔
یہ کیس ایک آئینہ ہے؛ ایک ایسا آئینہ کہ اگر مغرب اب بھی ایمانداری کا دعویدار ہو، تو اس میں اپنا منہ ضرور دیکھے۔ ایک ایسا آئینہ جو دکھاتا ہے کہ خدا پر ایمان اور انبیاء کرام بالخصوص پیغمبرِ اکرم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات و معارف کی روشنی میں انسانی عزت و عظمت و وقار کی گہری روحانیت و معنویت کی طرف واپسی کے بغیر، تہذیب، انسانی حقوق اور آزادی کا کوئی بھی دعویٰ محض ایک ڈرامے سے زیادہ نہیں ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مصنف: فرزاد جہان بین
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ